اگر کسی کو باسی کڑھی میں ابال کا محاورہ سمجھ میں نہ آتا ہو تو اب سمجھ میں آجانا چاہیے۔ حامد میر پر حملے کے بعد اُن کے بھائی عامر میر نے اطلاع دی کہ حامد میر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ حامد میر نے ایک بیان ریکارڈ کرایا تھا کہ اگر ان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری آئی ایس آئی کے چیف جنرل ظہیرالاسلام پر عائد ہوگی۔
جیو 8 گھنٹے سے زیادہ اس الزام کی جگالی کرتا رہا۔ آئی ایس آئی چیف کی تصویر کے ساتھ بریکنگ نیوز کے نام پر الزام تراشی کا سونامی برپا کردیا گیا۔ جنگ اور جیو کے ملازم صحافی کامران خان ہوں یا انصار عباسی… عامر لیاقت حسین ہوں یا عبدالرئوف، اپنے صحافی بھائی اور اپنے ادارے کے ہم زبان ہوگئے… اور انہیں ہونا بھی چاہیے تھا۔ صرف جیو نیوز نہیں، اخبار جنگ اور دی نیوز میں یہ بیان پکی سیاہی سے چھپا اور دنیا بھر میں دوہرایا گیا۔
کروڑوں پاکستانیوں کی طرح میرا پہلا ردعمل بھی یہی تھا کہ حامد میر پر حملہ آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے۔ میری خواہش تھی کہ حامد میر کو دی جانے والی دھمکیوں کی تفصیلات سامنے آئیں تو ان پر بات کی جائے، حکمرانوں کی مذمت کی جائے، وزارتِ داخلہ کے لتّے لیے جائیں، وزیر داخلہ کو ''رحمان ملک'' ہونے کا طعنہ دیا جائے۔
یہ پہلا سیدھا اور سادہ سوال تھا جو عامر میر اور اُن لوگوں سے کیا جانا چاہیے تھا جنہیں حامد میر نے ممکنہ خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے آئی ایس آئی چیف پر الزام لگایا تھا کہ یہ دھمکی کب دی گئی تھی؟
صرف ایک بار یا اس سے زیادہ؟ براہِ راست یا بالواسطہ؟ اگر بالواسطہ، تو واسطہ کون تھا۔
یہ سوال اٹھانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ کوئی آئی ایس آئی سے حساب چکانے پر تل گیا اور کوئی آئی ایس آئی کا حقِ نمک ادا کرنے پر۔ جذباتی اور سطحی لوگ، حرفوں کی توقیر سے ناواقف، لفظوں کے مفہوم سے نا آشنا، ناتراشیدہ اسکرپٹ رائٹروں کے جملوں کی جگالی کرکے دانش وری بگھارنے والے، اس بات سے بے نیاز کہ پیالی میں اٹھا طوفان تھمے گا، سوڈا واٹر کی بوتل کھلنے پر اٹھنے والا جھاگ بیٹھے گا تب کیا ہوگا!
جھاگ بیٹھنے کا عمل شروع ہوا تو عامر میرکی پریس بریفنگ سے ڈی جی آئی ایس آئی کا نام غائب ہوگیا۔ سرکار کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا۔
اور اب حامد میر کی اہلیہ نے بیان دیا ہے کہ حامد میر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں پی پی کے گزشتہ دورِ حکومت میں دی گئی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چوہدری نثار علی خان نے 2010ء میں حامد میر کو دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی تھی۔ جب کہ حامد میر کی کار میں بم نصب کیے جانے کا واقعہ بھی تین چار سال پرانا ہے۔
اس بیان سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ حامد میر کوکم از کم گزشتہ ایک سال میں تو کوئی دھمکی نہیں ملی۔ تو پھر اس تازہ حملے کا تعلق تین چار سال پرانی دھمکیوں سے جوڑنا، باسی کڑھی میں ابال آنے کے مترادف ہی کہا جاسکتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں دھمکیاں دینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گلیوں محلّوں سے لے کر عوامی سیاسی جلسوں تک ہاتھ پائوں توڑدینے اور فکس اپ کرنے کی دھمکیاں دینا معمول کا حصہ ہے۔ نہ بھٹو کی عوامی تقریروں کو کوئی بھول سکتا ہے، نہ اصغر خان کی طرف سے بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کے دعوے کو۔
گزشتہ پچیس برسوں میں مجھ ناچیز کو ایسی بیسیوں دھمکیاں ملی ہیں۔ آخری دھمکی کو تو ابھی شاید چھ ماہ بھی نہیں ہوئے۔ دھمکی دینے والے بھی بدلتے رہے اور دھمکیوں کا پس منظر بھی۔ اس دوران گھر پر فائرنگ بھی ہوئی اور میری کار بھی جلائی گئی۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اس کھیل کا حصہ ہے۔
ہماری والدہ ہمیں سمجھایا کرتی تھیں کہ بیٹا ''جب اوکھلی میں سر دیا ہے تو دھمکوں سے کیا ڈرنا''۔ سوال یہ ہے کہ جیو سمیت اس ملک کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے قوم کو کب دھمکیوں کے اس ماحول سے نجات دلانے کی کوشش کی ہے۔
میں جنگ کے مالکان سے پوچھتا ہوں کہ 1987ء میں کراچی پر قابض الطاف حسین کے حکم پر (جنہوں نے تب تک لندن مکانی نہیں کی تھی) جنگ کتنے دنوں تک قارئین تک نہیں پہنچا تھا؟
سندھ کے شہری علاقوں میں جنگ کی کتنی گاڑیاں لوٹی اور اخبارات جلائے گئے؟ تب آخر جنگ نے کس سے کیا سمجھوتا کیا تھااور کس قیمت پر؟ جنگ نے کن لوگوں کے شر سے بچنے کے لیے ''نامعلوم افراد'' کی اصطلاح ایجاد کی اور معلوم سیاسی پارٹی کی اپیل پر ہڑتال کی کامیابی کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کو نامعلوم افراد کے پردے میں چھپانے میں عافیت سمجھی۔
تب سے اب تک جنگ ایک خاص پارٹی کے معاملے میں''غریب کی جورو'' کیوں بنا ہوا ہے! یہاں تک کہ وہ جیو کے نمائندے ولی بابر کے قاتلوں کی سرپرست پارٹی کا نام لینے کی ہمت بھی نہیں کرسکتا۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ اتنے دبّو میر صاحبان اچانک آئی ایس آئی کے معاملے میں شیر کیوں بن گئے؟ مجھے اس چوہے کا لطیفہ یادآرہا ہے جو ایک رات شراب کے ڈرم میں گر گیا تھا اور پھر اگلی صبح … خیر چھوڑیے، جانے دیجیے۔
یہ تو جنگ کے مالکان کے رویوں اور مجبوریوں کی بات تھی۔ اب آتے ہیں حامد میر پر قاتلانہ حملے کی حقیقت پر۔
پورے ملک کے لیے عموماً اور کراچی کے بارے میں خصوصاً ایک بات کہی جاسکتی ہے کہ یہاں انسانوں پر حملہ یا تو پھڑکانے کے لیے کیا جاتا ہے یا دھڑکانے کے لیے۔ سچی بات یہ ہے کہ حامد میر پر حملہ انہیں پھڑکانے کے لیے تو تھا ہی نہیں، یہ حملہ انہیں دھڑکانے کی تعریف پر بھی پورا نہیں اترتا۔
میں علامتاً چند واقعات لکھتا ہوں۔ کراچی میں حکیم محمد سعید کو کار سے اترنے کے بعد دواخانے میں داخل ہونے کے درمیانی وقفے میں… ڈاکٹر اطہر قریشی کو گھر سے نکل کر نمازِ فجر کے لیے سڑک پار مسجد میں پہنچنے سے قبل… محترم صلاح الدین صاحب، مرزا لقمان بیگ اور ڈاکٹر پرویز محمود کو دورانِ سفر ان کی گاڑیوں میں اس طرح نشانہ بنایا گیا کہ انہیں اسپتال لے جانے تک کی مہلت نہ ملی۔
جس شہر میں پولیس افسر چوہدری اسلم اور شفیق تنولی کو چیتھڑوں میں تبدیل کردیا گیا ہو، اس شہر میں حامد میر پر جان لیوا حملہ اتنا شدید تھا کہ ان کی گاڑی پر پوری دو گولیوں کے سوراخ ہیں۔ جب کہ ایک آدھ گولی شاید شیشہ توڑ کر گاڑی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہو۔
عام آدمی کا اس بات پر یقین کرلینا بہت آسان تھا کہ یہ گولیاں میر صاحب کے جسم کے نچلے حصے (معدہ اور بڑی آنت) میں داخل ہوگئیں۔ اس حوالے سے جو رپورٹ ''جیو فینسنگ'' میں دکھائی گئی اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یا تو یہ گاڑی وہ نہیں ہے جس میں حامد میر سوار تھے یا…؟
گاڑی کی جو تصویر جنگ میں شائع ہوئی ہے، اس کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور سائڈ والے پچھلے دروازے پر فرش سے چند انچ اوپر ایک گولی کا سوراخ ہے، جب کہ دوسرا سوراخ گاڑی کے پچھلے دروازے پر فکس شیشے سے چند انچ نیچے ہے۔
فرش سے چند انچ اوپر والی گولی بھی دائیں پیر کی پنڈلی پر لگے گی یا بائیں پیر کے ٹخنے پر۔ اسی طرح فکس شیشے کے نیچے سے گاڑی میں داخل ہونے والی گولی شانہ کو زخمی کرے گی یا گردن کو۔
دور سے شیشے پر لگنے والی گولی سینے یا سر میں پیوست ہوگی یا گاڑی میں اندر کہیں دھنس جائے گی۔ ہر صورت میں گاڑی کی پچھلی نشست خون آلود ہوگی۔ دکھائی جانے والی گاڑی کی نہ تو نشست خون آلود ہے نہ اس میں اندر کوئی گولی پیوست ہے۔
میں یہ ساری باتیں اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ میرا جنرل انشورنس کے وہیکل کلیم ڈپارٹمنٹ سے طویل تعلق رہا ہے اور ہم چند منٹوں میں اصلی اور جعلی کلیم میں فرق کرلیا کرتے تھے۔ اگر آپ کو میری باتوں پر شبہ ہے تو گزشتہ چند برسوں میں ایسے قتل اور قاتلانہ حملوں کا جن میںکوئی کار سوار نشانہ بنا ہو، ریکارڈ دیکھ لیا جائے۔ کاروں کی تصاویر دیکھی جائیں۔ ماہرین کی رپورٹوں کا جائزہ لیا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی تو مذکورہ کار پر کیے جانے والے فائروں کا بھی ہوجائے گا۔ بس ذرا گولی سے ہونے والے سوراخ میں انگلی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ باڈی کی چادر کے مڑنے کا رخ گولی کے رخ کا تعین کردے گا۔
ویسے دھونس اور دھمکیوں کی طرح پاکستان میں جعلی قاتلانہ حملوں کا کلچر بھی موجود ہے۔ علامہ طاہرالقادری پر کیے جانے والے قاتلانہ حملے کے تفتیش کاروں کی رپورٹ اب بھی ریکارڈ کا حصہ ہوگی کہ یہ حملہ خودساختہ لگتا ہے۔
ویسے اپنے مخالفین کو پھنسانے کے لیے بہت احتیاط سے کرائے گئے خودساختہ قاتلانہ حملوں کی رپورٹیں اور پھر ان کی اصلیت کھل جانے کی تفتیشی کارروائیاں غالباً ہر تھانے کے ریکارڈ کا حصہ بنتی ہیں۔
لیکن اس سب کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں حامد میر پر حملے کو جعلی یا خود ساختہ کہہ رہا ہوں، میں تو صرف امکانات کی طرف اشارہ کررہا ہوں، اصرار نہیں۔ حالانکہ جنگ کے ایک کالم نگار جماعت اسلامی کے امیر کے انتخاب میں فوجی ایجنسیوں کے اثرانداز ہونے کا اشارہ کرکے ہی نہیں رہ گئے تھے، وہ اس پر اصرار بھی کرتے رہے۔ وہ ان کا حق تھا۔ یہ میرا حق تھا۔
مشتاق احمد خان
============================
Pakistani Media on American Payroll
One of the objectives of Kerry-Lugar aid bill for aid to Pakistan is to "support for promotion of a responsible, capable,and independent media."According to this RT TV broadcast of March 10, 2010, the US government planned to spend $50 million on this objective.
Click here to watch this video
http://www.nidokidos.org/threads/214220
| Reply via web post | • | Reply to sender | • | Reply to group | • | Start a New Topic | • | Messages in this topic (1) |
NidokidoS Group for best of forwarded mails
To join us , send an email to
nidokidos-subscribe@yahoogroups.com
Be the part of Nidokidos , Join our Forum
http://www.nidokidos.org
to share your emails with us, send them at
nidokidos@yahoogroups.com
===================================================
No comments:
Post a Comment